بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 296 — حج کی اقسام کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل حج کی اقسام کا بیان حدیث 296
222- وبه: عن حفصة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم أنها قالت لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ما شأن الناس حلوا بعمرة ولم تحلل أنت من عمرتك؟ قال: ”إني لبدت رأسي وقلدت هديي، فلا أحل حتى أنحر.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک بیوی (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے تو عمرہ کر کے احرام کھول دئیے ہیں اور آپ نے اپنے عمرے سے (ابھی تک) احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:میں نے اپنے بال چپکا لئے تھے اور قربانی کے جانورروں کو مقرر کر لیا تھا، لہٰذا میں قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولوں گا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 296]
تخریج الحدیث
«222- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 3941 ح 908، ك 20 ب 58 ح 80) التمهيد 297/15، الاستذكار:848، و أخرجه البخاري (1566) ومسلم (1229) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (295) باب پر واپس اگلی حدیث (297) →