بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 293 — حج کی اقسام کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل حج کی اقسام کا بیان حدیث 293
38- وبه: عن عائشة أنها قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى حجة الوداع فأهللنا بعمرة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”من كان معه هدي فليهلل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا.“ قالت: فقدمت مكة وأنا حائض فلم أطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة. فشكوت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: ”انقضي رأسك وامشطي وأهلي بالحج ودعي العمرة.“ قالت: ففعلت. فلما قضينا الحج أرسلني رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم مع عبد الرحمن بن أبى بكر إلى التنعيم فاعتمرت. ثم قال: ”هذه مكان عمرتك“، قالت: فطاف الذين أهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا طوافا آخر بعد أن رجعوا من منى لحجهم. وأما الذين أهلوا بالحج أو جمعوا الحج والعمرة فإنما طافوا طوافا واحدا.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (حج کرنے کے لئے) نکلے۔ ہم نے عمرہ کی لبیک کہی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کے جانور ہوں تو وہ عمرے کے ساتھ حج کی لبیک کہے پھر جب تک ان دونوں (حج و عمرہ) سے فارغ نہ ہو جائے احرام نہ کھولے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں مکہ آئی تو میں حیض سے تھی پس میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کی سعی کی پھر میں نے اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ (کا عمل) چھوڑ دو۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اسی طرح کیا۔ جب ہم نے حج مکمل کر لیا (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے (میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا تو میں نے عمرہ کر لیا پھر آپ نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہے۔ انہوں نے کہا: جنہوں نے عمرے کی لبیک کہی تھی انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی پھر انہوں نے احرام کھول دئیے، پھر انہوں نے منیٰ سے لوٹنے کے بعد حج کا طواف کیا۔ جن لوگوں نے حج (افراد) کی لبیک کہی تھی یا حج اور عمرے (قران) کی لبیک کہی تھی تو انہوں نے (صفا مروہ کے درمیان) صرف ایک طواف کیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 293]
تخریج الحدیث
«38- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 410/1، 411ح 951 ك20 ب74ح 223، وعنده: وامتشطى) التمهيد 198/8، الاستذكار: 892، و أخرجه البخاري (1556) ومسلم (1211/111) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (292) باب پر واپس اگلی حدیث (294) →