بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 266 — عاشوراء کے روزے کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) روزوں کے مسائل عاشوراء کے روزے کا بیان حدیث 266
466- وبه: أنها قالت: كان يوم عاشوراء يوما تصومه قريش فى الجاهلية، وكان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصومه فى الجاهلية، فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم المدينة صامه وأمر بصيامه، فلما فرض رمضان كان هو الفريضة وترك يوم عاشوراء، فمن شاء صامه ومن شاء تركه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ جاہلیت میں قریش عاشوراءکے ایک دن کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بعثت سے پہلے اسے رکھا کرتے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہ روزہ خود بھی رکھا اور اسے رکھنے کا حکم بھی دیا۔ پھر جب رمضان فرض ہوا تو اسی کے روزے فرض قرار پائے اور عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا گیا، پس جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے اسے ترک کر دے یعنی نہ رکھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 266]
تخریج الحدیث
«466- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 299/1 ح 671، ك 18 ب 11 ح 33) التمهيد 148/22، الاستذكار: 621، و أخرجه البخاري (2002) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (265) باب پر واپس اگلی حدیث (267) →