27- قال مالك: حدثني ابن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أنه سمع معاوية بن أبى سفيان يوم عاشوراء عام حج وهو على المنبر يقول: يا أهل المدينة، أين علماؤكم؟! سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يقول لهذا اليوم: ”هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله عليكم صيامه وأنا صائم، فمن شاء فليصم ومن شاء فليفطر.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا تھا، عاشوراء (دس محرم) والے دن منبر پر فرمایا: اے مدینے والو! تمہارے علماءکہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس دن کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ اللہ نے تم پر فرض نہیں کیا۔ میں روزے سے ہوں، جس کی مرضی ہے روزہ رکھے اور جس کی مرضی ہے (یہ) روزہ نہ رکھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 265]
تخریج الحدیث
«27- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 299/1 ح 672، ك 18 ب 11 ح 34) التمهيد 203/7، الاستذكار: 622، و أخرجه البخاري (2003) ومسلم (1129) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح