بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 261 — قصداً (جان بوجھ کر) روزہ توڑنے کا کفارہ
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) روزوں کے مسائل قصداً (جان بوجھ کر) روزہ توڑنے کا کفارہ حدیث 261
30- وبه: أن رجلا أفطر فى رمضان فى زمان النبى صلى الله عليه و آله وسلم فأمره رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أن يكفر بعتق رقبة أو صيام شهرين متتابعين أو إطعام ستين مسكينا، فقال: لا أجد، فأتي رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بعرق تمر، فقال: ”خذ هذا فتصدق به.“ فقال: يا رسول الله، ما أحد أحوج إليه مني، فضحك رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم حتى بدت أنيابه ثم قال: ”كله.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند (کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے (اپنی بیوی کے ساتھ، دن میں جماع کرنے کی وجہ سے) روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا:یہ لے لو اور اسے صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ سے زیادہ (مدینے میں) کوئی ضرورت مند نہیں ہے جو اس کا محتاج ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنسے حتی کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کھا لو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 261]
تخریج الحدیث
«30- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 296/1 ح 666، ك 18 ب 9 ح 28) التمهيد 161/7، الاستذكار: 616، و أخرجه مسلم (111/83) من حديث مالك به ورواه البخاري (1936) من حديث ابن شهاب الزهري به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (260) باب پر واپس اگلی حدیث (262) →