455- وبه: أنها أخبرته أنها لم تر رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم صلى صلاة الليل قاعدا قط حتى أسن، فكان يقرأ قاعدا، حتى إذا أراد أن يركع قام فقرأ نحوا من ثلاثين أو أربعين آية، ثم ركع.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑی عمر کے ہوئے تو آپ بیٹھ کر قرأت کرتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع کا رادہ کرتے تو کھڑے ہو کر تیس یا چالیس کے قریب آیتیں پڑھتے پھر رکوع کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 156]
تخریج الحدیث
«455- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 137/1 ح 308، ك 8 ب 7 ح 22) التمهيد 121/22، الاستذكار: 278، و أخرجه البخاري (1118) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح