بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 16702 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، الْأَعْمَشِ ، يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلِبُ، فَقَالَ:" دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت دودھ دوہ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16702]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعا، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعا، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار
حدیث نمبر: 16703 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ، سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ جَارُنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ ضِرَارٌ: ثُمَّ قُلْتُ: تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ سُفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا غُبِنَتْ سُفْقَتُكَ يَا ضِرَار".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کہ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام پر آپ کی بیعت کر لوں، پھر میں نے چند اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ یہ ہے) کہ میں پیالے، گلوکاراؤں کے گانے اور شراب کو چھوڑ آیا ہوں، گو کہ مجھے اس کی تکلیف برداشت کرنا پڑی ہے لیکن میں نے عاجزی سے یہ کام کئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں عمدہ جگہوں کو چھوڑ آیا ہوں اور مشرکین پر قتال کا بوجھ لاد آیا ہوں، لہذا اے پروردگار! میری اس تجارت کو خسارے سے محفوظ فرما کہ میں اس کے عوض اپنے اہل خانہ اور مال و دولت کو بیچ آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ضرار! تمہاری تجارت میں خسارہ نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16703]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعة، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار محمد بن سعيد الباهلي إن كان هو قرشية فهو ضعيف، وإن كان غيره فلم يوجد له ترجمة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعة، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار محمد بن سعيد الباهلي إن كان هو قرشية فهو ضعيف، وإن كان غيره فلم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 16704 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا، فَحَلَبْتُهَا، فَقَالَ:" دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے اہل خانہ نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دودھ دوہنے کا حکم دیا، میں اسے دوہن لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16704]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير
حدیث نمبر: 16705 مسند احمد
أَبُو صَالِحٌ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، عَمِّهِ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٌ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا، فَدَفَعْتُ عَنْهُ، فَقَالَ:" دَعُوهُ فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ"، فَقُلْتُ: نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبْعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ:" لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ أَوْ أَطْوَلْتَ، تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يأتُوه إِلَيْكَ، وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعَ النَّاسَ مِنْهُ، خَلِّ عَنْ زِمَامِ النَّاقَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مغیرہ بن سعد اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میدان عرفات میں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، لوگ مجھے ہٹانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کوئی ضرورت ہے جو اسے لائی ہے، میں نے عرض کیا: کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: اگرچہ تمہارے الفاظ مختصر ہیں لیکن بات بہت بڑی ہے، اللہ کی عبادت اس طرح کر و کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کر و، زکوٰۃ ادا کر و، حج بیت اللہ کر و، ماہ رمضان کے روزے رکھو، لوگوں کے پاس اس طرح جاؤ جیسے ان کا تمہیں اپنے پاس آنا پسند ہواور جس چیز کو تم اپنے حق میں ناگوار سمجھتے ہو، اس سے لوگوں کو بھی بچاؤ اور اب اونٹنی کی رسی چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16705]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المغيرة ابن سعد لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي، وأبوه سعد بن الأخرم مختلف فى صحبته، ومختلف فى حديثه
الحكم: إسناده ضعيف، المغيرة ابن سعد لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي، وأبوه سعد بن الأخرم مختلف فى صحبته، ومختلف فى حديثه