بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16703
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16703
حدیث نمبر: 16703 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ، سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ جَارُنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ ضِرَارٌ: ثُمَّ قُلْتُ: تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ سُفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا غُبِنَتْ سُفْقَتُكَ يَا ضِرَار".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کہ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام پر آپ کی بیعت کر لوں، پھر میں نے چند اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ یہ ہے) کہ میں پیالے، گلوکاراؤں کے گانے اور شراب کو چھوڑ آیا ہوں، گو کہ مجھے اس کی تکلیف برداشت کرنا پڑی ہے لیکن میں نے عاجزی سے یہ کام کئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں عمدہ جگہوں کو چھوڑ آیا ہوں اور مشرکین پر قتال کا بوجھ لاد آیا ہوں، لہذا اے پروردگار! میری اس تجارت کو خسارے سے محفوظ فرما کہ میں اس کے عوض اپنے اہل خانہ اور مال و دولت کو بیچ آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ضرار! تمہاری تجارت میں خسارہ نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16703]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعة، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار محمد بن سعيد الباهلي إن كان هو قرشية فهو ضعيف، وإن كان غيره فلم يوجد له ترجمة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعة، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار محمد بن سعيد الباهلي إن كان هو قرشية فهو ضعيف، وإن كان غيره فلم يوجد له ترجمة
← پچھلی حدیث (16702) باب پر واپس اگلی حدیث (16704) →