بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث لَقِیطِ بنِ صَبِرَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 16380 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي هَاشِمٍ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم حلق میں پانی ڈالا کر و تو خوب مبالغہ کیا کر و الاّ یہ کہ تم روزے سے ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16380]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16381 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ الْأَصَابِعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: جب وضو کیا کر و تو انگلیوں میں خلال بھی کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16382 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَبَحَ لَنَا شَاةً، وَقَالَ:" لَا تَحْسِبَنَّ" وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبَنَّ إِنَّا إِنَّمَا ذَبَحْنَاهَا لَكَ، وَلَكِنْ لَنَا غَنَمٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَةً ذَبَحْنَا شَاةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہمارے لئے ایک بکری ذبح فرمائی اور فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صرف تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارا بکریوں کا ریوڑ ہے جب بکریوں کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے تو ہم اس میں سے ایک ذبح کر لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16383 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ أَبِي هَاشِمٍ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأْتَ، فَأَبْلِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ مَا لَمْ تَكُنْ صَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم حلق میں پانی ڈالا کر و تو خوب مبالغہ کیا کر و الاّ یہ کہ تم روزے سے ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16384 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو هَاشِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، أَبِيه ، جَدِّه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو هَاشِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيه أو جَدِّه وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ. قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَجِدْهُ، فَأَطْعَمَتْنَا عَائِشَةُ تَمْرًا، وَعَصَدَتْ لَنَا عَصِيدَةً إِذْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ، فَقَالَ:" هَلْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ؟" قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ دَفَعَ رَاعِي الْغَنَمِ فِي الْمُرَاحِ عَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ، قَالَ:" هَلْ وَلَدَتْ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاذْبَحْ لَنَا شَاةً"، ثُمَّ أَقْبِلْ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبَنَّ إِنَّا ذَبَحْنَا الشَّاةَ مِنْ أَجْلِكُمَا. لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ عَلَيْهَا، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً أَمَرْنَاهُ بِذَبْحِ شَاةٍ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ وَخَلِّلْ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْثَرْتَ، فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً، فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا، فَقَالَ:" طَلِّقْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا ذَاتُ صُحْبَةٍ وَوَلَدٍ، قَالَ:" فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ، فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ملے سیدنا عائشہ نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور گھی آٹاملا کر ہمارے لئے کھانا تیار کیا اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی جھک کر چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ تم نے کچھ کھایا ہے ہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! اسی دوران بکریوں کے باڑے میں سے ایک چرواہے نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بکری کا ایک بچہ پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا بکری نے بچہ دیا ہے اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک بکری کو ذبح کر و اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صرف تمہاری وجہ سے ذبح کیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارا بکریوں کا ریوڑ ہے جب بکریوں کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے تو ہم اس میں سے ایک ذبح کر لیتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد سو سے زیادہ ہو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں آپ نے فرمایا: جب وضو کیا کر و تو خوب اچھی طرح کیا کر و اور انگلیوں کا خلال بھی کیا کر و اور جب تم ناک میں پانی ڈالو تو خوب مبالغہ کر و الاّ یہ تم روزے سے ہو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی بڑی زبان دراز اور بےہو دہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دیدو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ کافی عرصے سے میرے یہاں ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے اپنے پاس رکھ کر سمجھاتے رہواگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو وہ تمہاری بات مان لے گی لیکن اپنی بیوی کو اپنی باندی کی طرح نہ مارنا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح