وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَبَحَ لَنَا شَاةً، وَقَالَ:" لَا تَحْسِبَنَّ" وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبَنَّ إِنَّا إِنَّمَا ذَبَحْنَاهَا لَكَ، وَلَكِنْ لَنَا غَنَمٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَةً ذَبَحْنَا شَاةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا لقیط بن صبرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہمارے لئے ایک بکری ذبح فرمائی اور فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صرف تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارا بکریوں کا ریوڑ ہے جب بکریوں کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے تو ہم اس میں سے ایک ذبح کر لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16382]
الحكم: إسناده صحيح