بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث هِشَامِ بنِ عَامِر الاَنصَارِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 17
حدیث نمبر: 16251 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ قَرْحٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ نُقَدِّمُ؟، قَالَ:" أَكْثَرَهُمْ جَمْعًا وَأَخْذًا لِلْقُرْآنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبر کشادہ کر کے کھودو اور ایک ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے کسے رکھیں فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16251]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام بن عامر الأنصاري
الحكم: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام بن عامر الأنصاري
حدیث نمبر: 16252 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَشْتَرُونَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً إِلَى الْعَطَاءِ، فَأَتَى عَلَيْهِمْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ ، فَنَهَاهُمْ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً، وَأَنْبَأَنَا، أَوْ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ لوگ چاندی کے بدلے وظیفہ ملنے تک کی تاریخ پر ادھار سونا لے لیا کرتے تھے سیدنا ہشام بن عامر نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چاندی کے بدلے ادھار سونا خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ عین سود ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16252]
حکم دارالسلام
16252
الحكم: 16252
حدیث نمبر: 16253 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، بَعْضِ ، هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ بَعْضِ أَشْيَاخِهِمْ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ لِجِيرَانِهِ: إِنَّكُمْ لَتَخُطُّونَ إِلَى رِجَالٍ مَا كَانُوا أَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَوْعَى لِحَدِيثِهِ مِنِّي، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامرنے ایک مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے فرمایا کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ بارگاہ نبوت میں حاضر باش تھے اور نہ ہی مجھ سے زیادہ احادیث کو یاد رکھنے والے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفہ میں دجال سے زیادہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2946، والمبهمان من بعض أشياخ حميد، هما ثقتان
الحكم: إسناده صحيح، م: 2946، والمبهمان من بعض أشياخ حميد، هما ثقتان
حدیث نمبر: 16254 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَخُطُّونَ إِلَى أَقْوَامٍ مَا هُمْ بِأَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا، قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16254]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حميد ابن هلال اختلف فى سماعه من هشام بن عامر
الحكم: حديث صحيح، حميد ابن هلال اختلف فى سماعه من هشام بن عامر
حدیث نمبر: 16255 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَاللَّهِ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَعْظَمُ مِنَ الدَّجَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفے میں دجال سے زیادہ کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16255]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2946، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الحكم: حديث صحيح، م: 2946، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
حدیث نمبر: 16256 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالُوا: كَيْفَ تَأْمُرُ بِقَتْلَانَا؟، قَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" قَالَ هِشَامٌ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيْ اثْنَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16256]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الحكم: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
حدیث نمبر: 16257 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ ، هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، قَالَ: شُعْبَةُ قَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنْ كَانَ تَصَارَمَا فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا، وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا فَسَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتُهُ، فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، فَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کر لے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کو سلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کو شیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مرگئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہو سکیں گے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16257]
حکم دارالسلام
اسناده صحيح
الحكم: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 16258 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا، وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبَلْ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کر لے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کو سلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کو شیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مرگئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہو سکیں گے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16258]
حکم دارالسلام
اسناده صحيح
الحكم: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 16259 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ جَاءَتْ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ"، قَالُوا: فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ؟، قَالَ:" أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٌ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن انصار کی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئے ہیں اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے کسے رکھیں فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو چنانچہ میرے والد عامر کو ایک یا دو آدمیوں سے پہلے رکھا گیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16259]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الحكم: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
حدیث نمبر: 16260 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ، فَمَنْ قَالَ أَنْتَ رَبِّي، افْتُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: كَذَبْتَ، رَبِّي اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، فَلَا يَضُرُّهُ" أَوْ قَالَ:" فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال کا سر پیچھے سے ایسا محسوس ہو گا کہ اس میں راستے بنے ہوئے ہیں سو جو اسے اپنا رب مان لے گا وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے گا اور جو اس کی تکذیب کر کے کہہ دے گا کہ میرا اللہ میرا رب ہے اور میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں تو وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچاسکے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16260]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع من هشام
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع من هشام
حدیث نمبر: 16261 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا، وَوَسِّعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا". فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، فَقُدِّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16261]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الحكم: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
حدیث نمبر: 16262 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدٍ ، أَبِي الدَّهْمَاءِ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهِمْ مِنَ الْقَرْحِ، فَقَالَ:" احْفِرُوا، وَأَحْسِنُوا، وَأَوْسِعُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، فَمَاتَ أَبِي، فَقُدِّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16263 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ گہری کھودو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16264 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ وَزَادَ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، وَزَادَ فِيهِ" وَأَعْمِقُوا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16265 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةٌ أَكْبَرُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفے میں دجال سے زیادہ بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16265]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2947، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الحكم: حديث صحيح، م: 2947، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
حدیث نمبر: 16266 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: قَدِمَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْبَصْرَةَ، فَوَجَدَهُمْ يَتَبَايَعُونَ الذَّهَبَ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ، فَقَامَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً، وَأَخْبَرَنَا أَوْ قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ہشام بن عامر بصرہ آئے تو دیکھا کہ لوگ چاندی کے بدلے میں وظیفہ ملنے تک کی تاریخ پر ادھار سونا لے لیا کرتے تھے سیدنا ہشام بن عامر نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں چاندی کے بدلے ادھار سونا خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ عین سود ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16266]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذه اسناد ضعيف لا نقطاعه، أبو قلابه لم يسمع من هشام
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذه اسناد ضعيف لا نقطاعه، أبو قلابه لم يسمع من هشام
حدیث نمبر: 16267 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي الدَّهْمَاءِ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُجَاوِزُونَ إِلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانُوا أَحْصَى وَلَا أَحْفَظَ لِحَدِيثِهِ مِنِّي، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ آدَمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامرنے ایک مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے فرمایا کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ بارگاہ نبوت میں حاضر باش تھے اور نہ ہی مجھ سے زیادہ احادیث کو یاد رکھنے والے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفہ میں دجال سے زیادہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2946
الحكم: إسناده صحيح، م: 2946