إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالُوا: كَيْفَ تَأْمُرُ بِقَتْلَانَا؟، قَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" قَالَ هِشَامٌ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيْ اثْنَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و جسے قرآن زیادہ یاد ہواسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16256]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام
الحكم: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام