بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث قرَّةَ المزَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 16243 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ الْجُعْفِيِّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ الْجُعْفِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَا، وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقٌ، فَبَايَعْتُهُ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي مِنْ جَيْبِ الْقَمِيصِ، فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ". قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا أَبَاهُ شِتَاءً وَلَا حَرًّا إِلَّا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا لَا يَزُرَّانِ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ بن قرہ وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں قبیلہ مزینہ کے ایک گروہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی اس وقت آپ کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے چنانچہ بیعت کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اجازت سے آپ کی قمیص مبارک میں ہاتھ ڈال کر مہر نبوت کو چھو کر دیکھا راوی حدیث عروہ کہتے ہیں کہ میں نے سردی گرمی جب بھی معاویہ اور ان کے بیٹے کو دیکھا ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہی دیکھے وہ اس میں کبھی بٹن نہ لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16244 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، رَوْحٌ ، بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : لَقَدْ عَمَّرْنَا مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا الْأَسْوَدَانِ؟"، قُلْتُ:" لَا"، قَالَ:" التَّمْرُ وَالْمَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک وقت ایسا بھی گزارا بھی ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے اسودین کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اسودین سے کیا مراد ہے میں نے کہا نہیں فرمایا: کھجور اور پانی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16245 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ" حَلَبَ وَصَرَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور وہ دودھ دوہ رہے تھے اس کے بعد انہوں نے اس کا تھن باندھ دیا۔ معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے خود سماع کیا ہے یا کسی نے ان سے بیان کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16246 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، شُعْبَةَ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبِي حَدَّثَنَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي أَسَمِعَهُ مِنْهُ أَوْ حُدِّثَ عَنْهُ؟.
حکم دارالسلام
إسناد هذا الأثر صحيح، وقد ثبتت صحبة والد معاوية عند الجمهور
الحكم: إسناد هذا الأثر صحيح، وقد ثبتت صحبة والد معاوية عند الجمهور
حدیث نمبر: 16247 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْخَبِيثَتَيْنِ، وَقَالَ:" مَنْ أَكَلَهُمَا، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا"، وَقَالَ:" إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا، فَأَمِيتُمُوهُمَا طَبْخًا"، قَالَ: يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ مزنی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دو گندے درختوں پیاز اور لہسن سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے اگر تمہارا اسے کھائے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تو پکا کر ان کی بو مار لیا کر ے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16247]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16248 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ أَبِي إِيَاسٍ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، وَقَدْ كَانَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حق میں دعابخشش فرمائی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا . [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16249 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ:" صَوْمُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن قرہ سے مروی ہے کہ اپنے والد کے حوالے سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مہینے تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا کہ یہ روزانہ رکھنے اور کھولنے کے مترادف ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16250 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِيَاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ،" فَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْنَا لَهُ صُحْبَةٌ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ كَانَ عَلَى عَهْدِهِ قَدْ حَلَبَ وَصَرَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میرے والد بچپن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حق میں دعابخشش فرمائی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے پوچھا کہ کہ انہیں شرف صحبت بھی حاصل ہے انہوں نے فرمایا: نہیں البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں وہ دودھ دوہ لیتے تھے اور جانور کا تھن باندھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16250]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد روي موقوفا
الحكم: حديث صحيح، وقد روي موقوفا