سُلَيْمَانُ ، رَوْحٌ ، بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : لَقَدْ عَمَّرْنَا مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا الْأَسْوَدَانِ؟"، قُلْتُ:" لَا"، قَالَ:" التَّمْرُ وَالْمَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک وقت ایسا بھی گزارا بھی ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے اسودین کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اسودین سے کیا مراد ہے میں نے کہا نہیں فرمایا: کھجور اور پانی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16244]
الحكم: إسناده صحيح