بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَوسِ بنِ اَبِی اَوس الثَّقَفِیِّ وَهوَ اَوس بن حذَیفَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 26
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 16176 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ ، أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَغَسَّلَ ثُمَّ ابْتَكَرَ وَغَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ حَتَّى يُنْصِتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا عَمَلُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16176]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16177 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، ابْنِ أَوْسٍ ، أَوْسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: كَانَ جَدِّي أَوْسٌ أَحْيَانًا يُصَلِّي، فَيُشِيرُ إِلَيَّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَأُعْطِيهِ نَعْلَيْهِ، وَيَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتا تو وہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16177]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16178 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ غَدَا، فَابْتَكَرَ وَجَلَسَ مِنَ الْإِمَامِ قَرِيبًا، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ بِكُلِّ خَطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16179 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، فُلَانًا ، جَدِّي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ فُلَانًا ، أَوْسٌ جَدُّهُ، قَالَ: كَانَ جَدِّي يَقُولُ لِي وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يُومِئُ إِلَيَّ نَاوِلْنِي النَّعْلَيْنِ، فَأُنَاوِلُهُمَا إِيَّاهُ، فَيَلْبَسُهُمَا، وَيُصَلِّي فِيهِمَا، وَيَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتا تو وہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16179]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16180 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا". قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا؟ قَالَ: غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ ہتھیلی میں پانی لیا میں نے پوچھا کہ کس مقصد کے لئے فرمایا: ہاتھ دھونے کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16180]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبن عمرو بن أوس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبن عمرو بن أوس
حدیث نمبر: 16181 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، شَرِيكٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عَلَى مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ،" فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ"، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے اپنے والد صاحب کو عرب کے کسی چشمے پر جوتیوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جوتیوں پر مسح کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس طرح دیکھا ہے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16181]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك أوسا
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك أوسا