الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، شَرِيكٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عَلَى مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ،" فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ"، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے اپنے والد صاحب کو عرب کے کسی چشمے پر جوتیوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جوتیوں پر مسح کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس طرح دیکھا ہے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16181]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك أوسا
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك أوسا