بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ الحَارِثِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 16148 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا. وَهِيَ كَافِرَةٌ. فَأَعْرَضَ، عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، فَقَالَ لِي:" كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا؟! دَعْهَا عَنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اوعرض کیا: میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا میں سامنے کے رخ سے آیا اور پھر یہی کہا وہ جھوٹ بول رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ اس سیاہ فام کا کہنا ہے اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5104
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5104
حدیث نمبر: 16149 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ يَعْنِي فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ، قَالَ:" فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 88
الحكم: إسناده صحيح، خ: 88
حدیث نمبر: 16150 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعَيْمَانِ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فِي الْبَيْتِ، فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي، وَالْجَرِيدِ، وَالنِّعَالِ، قَالَ: فَكُنْتُ مِمَّنْ ضَرَبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو ہاتھ اور ٹہنیوں جوتیوں سے مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2316
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2316
حدیث نمبر: 16151 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ وَلُيِسَ عَلَيْهِ، قَالَ:" ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ، أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھی سلام پھیرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا اس لئے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16151]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1221
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1221
حدیث نمبر: 16152 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16152]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1221
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1221
حدیث نمبر: 16153 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَتَنَحَّيْتُ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ:" فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا؟" فَنَهَاهُ عَنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2659
حدیث نمبر: 16154 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ أَوْ سَمِعَهُ مِنْهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ خَصَّهُ بِهِ أَنَّهُ نَكَحَ ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ، فَقَالَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَجِئْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ:" فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا؟" فَنَهَاهُ عَنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 88
الحكم: إسناده صحيح، خ: 88
حدیث نمبر: 16155 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَفَّانُ ، وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ . قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوْ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ"، فَضَرَبُوهُ. قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً. قَالَ عُقْبَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ چیز نہایت گراں گزری پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6775
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6775