يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَتَنَحَّيْتُ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ:" فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا؟" فَنَهَاهُ عَنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2659