بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی سَرِیحَةَ الغِفَارِیِّ حذَیفَةَ بنِ اَسِید رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 16141 مسند احمد
سُفْيَانُ ، فُرَاتٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" مَا تَذْكُرُونَ؟"، قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ الدُّخَانُ، وَالدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَقَطَ كَلِمَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قیامت کا تذکر ہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تم مذا کر ات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: قیامت کا تذکر ہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا سیدنا عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہو گی جو۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے۔ کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کر لے گی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2901
الحكم: إسناده صحيح، م: 2901
حدیث نمبر: 16142 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" أَوْ خمس وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَاذَا؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَيَكْتُبَانِ، فَيَقُولَانِ: مَاذَا؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَكْتُبَانِ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ، وَأَثَرُهُ، وَمُصِيبَتُهُ، وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ، فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نطفہ جب رحم مادر میں استقراء پکڑ لیتا ہے تو چالیس دن گزرنے کے بعد ایک فرشتہ آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہو گا یا سعید، مذکر ہو گا یا مونث اللہ تعالیٰ اسے بتا دیتے ہیں اور وہ لکھ لیتا ہے پھر اس کا عمل، اثر، مصیبت اور رزق بھی لکھ دیا جاتا ہے پھر اس صحیفے کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2644
الحكم: إسناده صحيح، م: 2644
حدیث نمبر: 16143 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فُرَاتٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَبِي سَرِيحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ. قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا تَذْكُرُونَ؟"، قَالُوا: السَّاعَةَ، قَالَ:" إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَالدُّخَانُ، وَالدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ". فَقَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُهُ وَأَحْسِبُهُ، قَالَ:" تَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ نَزَلُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا" قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ:" نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ"، وَقَالَ الْآخَرُ:" رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکر ہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذآ کرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: قیامت کا تذکر ہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا سیدنا عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہو گی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کر دے گی لوگ جہاں پڑاؤ کر یں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کر ے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کر یں گے وہ یہیں قیلولہ کر ے گی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16143]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2901
الحكم: إسناده صحيح، م: 2901
حدیث نمبر: 16144 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، فُرَاتٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانُ، وَالدَّابَّةُ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَالدَّجَّالِ، وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ، تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکر ہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذآ کرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: قیامت کا تذکر ہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا سیدنا عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہو گی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کر دے گی لوگ جہاں پڑاؤ کر یں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کر ے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کر یں گے وہ یہیں قیلولہ کر ے گی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2901
الحكم: إسناده صحيح، م: 2901
حدیث نمبر: 16145 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِمَوْتِ النَّجَاشِيِّ، قَالَ: فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا: اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16146 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمُثَنَّى ، قَتَادَةُ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ يَوْمًا، فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ". قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" صُحْمَةُ النَّجَاشِيُّ"، وَقَالَ أَزْهَرُ:" صَحْمَةُ"، وَقَالَ أَزْهَرُ: أَبِي الطُّفَيْلِ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اصحمہ نجاشی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16147 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ"، قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" صُحْمَةُ النَّجَاشِيُّ"، فَقَامُوا، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اصحمہ نجاشی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح