سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" أَوْ خمس وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَاذَا؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَيَكْتُبَانِ، فَيَقُولَانِ: مَاذَا؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَكْتُبَانِ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ، وَأَثَرُهُ، وَمُصِيبَتُهُ، وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ، فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نطفہ جب رحم مادر میں استقراء پکڑ لیتا ہے تو چالیس دن گزرنے کے بعد ایک فرشتہ آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہو گا یا سعید، مذکر ہو گا یا مونث اللہ تعالیٰ اسے بتا دیتے ہیں اور وہ لکھ لیتا ہے پھر اس کا عمل، اثر، مصیبت اور رزق بھی لکھ دیا جاتا ہے پھر اس صحیفے کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2644
الحكم: إسناده صحيح، م: 2644