بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 16087 مسند احمد
ابْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، أُمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" , فَرَمَى بِسَبْعٍ، وَلَمْ يَقِفْ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکر یاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کر و تو اسے کے لئے ٹھیکر ی کی کنکر یاں استعمال کر و پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سات کنکر یاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16087]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان
حدیث نمبر: 16088 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، أُمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکر یاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا اور جب جمرات کی رمی کر و تو اس کے لئے ٹھیکر ی کی کنکر یاں استعمال کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16088]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 16089 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ ، أُمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکر یاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا اور جب جمرات کی رمی کر و تو اس کے لئے ٹھیکر ی کی کنکر یاں استعمال کر و۔ مکی صحابہ کرام کی احادیث ختم ہوئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16089]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، راجع ما قبله