بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16087
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16087
حدیث نمبر: 16087 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، أُمِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" , فَرَمَى بِسَبْعٍ، وَلَمْ يَقِفْ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکر یاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کر و تو اسے کے لئے ٹھیکر ی کی کنکر یاں استعمال کر و پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سات کنکر یاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16087]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان
← پچھلی حدیث (16086) باب پر واپس اگلی حدیث (16088) →