بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 15945 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، مَنْظُورٍ بْنِ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ ، أَبِيهِ ، بُهَيْسَةَ ، أَبِيهَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ مَنْظُورٍ بْنِ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُهَيْسَةَ ، عَنْ أَبِيهَا ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحِ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانی، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا: تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15945]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل، منظور بن سيار مجهول، بهيسة لا تعرف، أخطأ فيه وكيع فى تسمية سيار بن منظور، فقد قال: منظور بن سيار، وهو وهم، وقد وقع اضطراب فى إسناد هذا الحديث
الحكم: إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل، منظور بن سيار مجهول، بهيسة لا تعرف، أخطأ فيه وكيع فى تسمية سيار بن منظور، فقد قال: منظور بن سيار، وهو وهم، وقد وقع اضطراب فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 15946 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، سَيَّارَ بْنَ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيَّ ، أَبِي ، بُهَيْسَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَيَّارَ بْنَ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ بُهَيْسَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ. فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف لعلل، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 15947 مسند احمد
يَزِيدُ ، كَهْمَسٌ ، سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ ، أَبِيهِ ، بُهَيْسَةَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُهَيْسَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ"، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحُ"، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ"، قَالَ: فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ , قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانی، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا: تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15947]
حکم دارالسلام
راجع ماقبله
الحكم: راجع ماقبله