يَزِيدُ ، كَهْمَسٌ ، سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ ، أَبِيهِ ، بُهَيْسَةَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُهَيْسَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ"، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحُ"، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ"، قَالَ: فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ , قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانی، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا: تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15947]
الحكم: راجع ماقبله