أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ مِنْ ذِي الْكَلَاعِ , أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّومِ، فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّهُ يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أَنَّ أَقْوَامًا مِنْكُمْ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنْ الْوُضُوءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوروح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ پر کچھ اشتباہ ہو گیا نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لوگ جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کر و تو خوب اچھی طرح وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15874]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، أبو روح ليست له صحبة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، أبو روح ليست له صحبة