إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي رَوْحٍ الْكَلَاعِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي رَوْحٍ الْكَلَاعِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الرُّومِ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ بَعْضُهَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا لَبَسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَإِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوروح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ پر کچھ اشتباہ ہو گیا نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لوگ جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کر و تو خوب اچھی طرح وضو کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15872]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله، وإرساله ، أبوروح الكلاعي تابعي
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله، وإرساله ، أبوروح الكلاعي تابعي