بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 15764 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِيهِ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ طَعَامًا فَلَعِقَ أَصَابِعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ کھانا تناول فرمایا: اور بعد میں انگلیاں چاٹ لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15764]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15765 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْ شَائِهَا، فَأَدْرَكَتْهَا الرَّاعِيَةُ، فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو مقام سلع میں ان کی بکریاں چرایا کر تی تھی ایک مرتبہ ایک بھیڑیا ایک بکری کو لے کر بھاگ گیا اس باندی نے اس کا پیچھا کر کے اس کو جالیا اور اسے ایک دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15765]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2304 وهذا إسناد ظاهر الانقطاع بين ابن كعب وأبيه ، لكن صرح بسماعه منه عند البخاري، فاتصل الإسناد
الحكم: حديث صحيح، خ: 2304 وهذا إسناد ظاهر الانقطاع بين ابن كعب وأبيه ، لكن صرح بسماعه منه عند البخاري، فاتصل الإسناد
حدیث نمبر: 15766 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَمْعَةُ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ مُلَازِمٌ رَجُلًا فِي أُوقِيَّتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ:" هَكَذَا" أَيْ: ضَعْ عَنْهُ الشَّطْرَ , قَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ:" أَدِّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنْ حَقِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی شخص سے اپنی دو اوقیہ چاندی کا مطالبہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھ سے فرمایا کہ اس کا نصف قرض معاف کر دو میں نے عرض کیا: بہت بہتر یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا کہ اب جو حق باقی بچا ہے اسے ادا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15766]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة
الحكم: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة
حدیث نمبر: 15767 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَعْدِ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنَ الطَّعَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ کھانا کھایا اور بعد میں اپنی انگلیاں چاٹ لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15767]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، م: 2032
الحكم: إسناده ضعيف، م: 2032
حدیث نمبر: 15768 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ سَوْدَاءَ ذَكَّتْ شَاةً لَهُمْ بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ،" فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ایک سیاہ فام باندی تھی جس نے ایک بکری کو دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15768]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2308. حجاج ضعيف لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2308. حجاج ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 15769 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَعْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: هُوَ شَكَّ يَعْنِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُقِيمُهَا الرِّيَاحُ، تَعْدِلُهَا مَرَّةً، وَتَصْرَعُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُعِلُّهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِحَافُهَا يَخْتَلِعُهَا أَوْ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً". شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کی مثال کھیتی کے ان دانوں کی سی ہے جنہیں ہوا اڑاتی ہے کبھی برابر کر تی ہے اور کبھی دوسری جگہ لے جا کر پٹخ دیتی ہے یہاں تک کہ اس کا وقت مقررہ آ جائے اور کافر کی مثال ان چاولوں کی سی ہے جو اپنی جڑ پر کھڑے رہتے ہیں انہیں کوئی چیز نہیں ہلا سکتی یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ انہیں اتار لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15769]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5643، م: 2810
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5643، م: 2810
حدیث نمبر: 15770 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْجِنِي إِلَّا بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ لَا أَكْذِبَ أَبَدًا، وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: اللہ نے مجھے سچ کے علاوہ کسی اور چیز کی برکت سے نجات نہیں دی اب میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ میں کبھی جھوٹ نہ بولوں اور میں اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا بہت اپنے پاس بھی رکھ لو تو بہتر ہے عرض کیا: کہ پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لیتاہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15770]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3889، م: 2769
الحكم: حديث صحيح، خ: 3889، م: 2769
حدیث نمبر: 15771 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحٍ ، كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحٍ ، قَالَ: قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ :" مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ أَتَجَهَّزُ غَدًا، ثُمَّ أَلْحَقُهُ , فَأَخَذْتُ فِي جَهَازِي، فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ، فَقُلْتُ: آخُذُ فِي جَهَازِي غَدًا وَالنَّاسُ قَرِيبٌ بَعْدُ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ , فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذْتُ فِي جَهَازِي، فَأَمْسَيْتُ فَلَمْ أَفْرُغْ، فَقُلْتُ: أَيْهَاتَ، سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا، فَأَقَمْتُ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النَّاسُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي هَذِهِ الْغَزَاةِ , فَأَعْرَضَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يُكَلِّمُونَا، وَأُمِرَتْ نِسَاؤُنَا أَنْ يَتَحَوَّلْنَ عَنَّا. قَالَ: فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَيْ جَابِرُ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، هَلْ عَلِمْتَنِي غَشَشْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَوْمًا قَطُّ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَجَعَلَ لَا يُكَلِّمُنِي. قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى الثَّنِيَّةِ يَقُولُ: كَعْبًا كَعْبًا، حَتَّى دَنَا مِنِّي، فَقَالَ: بَشِّرُوا كَعْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اس غزوے کے علاوہ کسی دوسرے غزوے میں اتنا مالدار نہیں تھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے تو میں نے سوچا کہ کل سامان سفر درست کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملوں گا چنانچہ میں نے تیاری شرع کر دی توشام ہو گئی لیکن میں فارغ نہیں ہو سکا حتی کہ تیسرے دن بھی اسی طرح ہوا میں کہنے لگا کہ ہائے افسوس لوگ تین دن کا سفر طے کر چکے ہیں یہ سوچ کر میں رک گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آ گئے تو لوگ مختلف عذر بیان کرنے لگے کہ میں بھی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا: کہ مجھ اس غزوے سے زیادہ کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے آسانی حاصل نہ تھی اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے اعرض فرمالیا اور لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے بھی منع فرما دیا بیویوں کے متعلق حکم دیا گیا کہ وہ ہم سے دور رہیں ایک دن میں گھر کی دیوار پر چڑھا تو مجھے جابر رضی اللہ عنہ نظر آئے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا اے جابر رضی اللہ عنہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں علم ہے کہ میں نے کسی دن اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دیاہو لیکن وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میں نے ایک پہاڑی کی چوٹی سے کسی کو اپنانام لیتے ہوئے سنا یہاں تک کہ وہ میرے قریب آگیا اور کہنے لگا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے لئے خوش خبری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15771]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2775، م: 2769 ، دون قوله: "فإذا أنا بجابر بن عبدالله......"، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمر بن كثير لم يدرك كعب بن مالك
الحكم: حديث صحيح، خ: 2775، م: 2769 ، دون قوله: "فإذا أنا بجابر بن عبدالله......"، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمر بن كثير لم يدرك كعب بن مالك
حدیث نمبر: 15772 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا" قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَسَبَّحَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ، فَيَأْتِيهِ النَّاسُ، فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور سلام پھیر کر اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھ جاتے اور لوگ آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2757، م: 2769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2757، م: 2769
حدیث نمبر: 15773 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَدِمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ضُحًى، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ فَعَلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ تبوک سے چاشت کے وقت واپس آئے تھے واپسی پر آپ نے مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سفر سے واپس آتے تو ایسا ہی کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2757، م: 2769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2757، م: 2769
حدیث نمبر: 15774 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِنْ تَبُوكَ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَعَلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ تبوک سے چاشت کے وقت واپس آئے تھے واپسی پر آپ نے مسجد میں دو رکعتیں پڑھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سفر سے واپس آتے تو ایسا ہی کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2757، م: 2769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2757، م: 2769
حدیث نمبر: 15775 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ". وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور سلام پھیر کر اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھ جاتے اور لوگ آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3088، م: 716
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3088، م: 716
حدیث نمبر: 15776 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ شَاكٍ: اقْرَأْ عَلَى ابْنِي السَّلَامَ، تَعْنِي مُبَشِّرًا، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُسْلِمِ طَيْرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَتْ: صَدَقْتَ، فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن کعب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ام مبشر ان سے کہنے لگے کہ میرے بیٹے مبشر کو میرا سلام کہنا جب موت کے بعد اس سے ملاقات ہوانہوں نے فرمایا کہ ام مبشر اللہ تمہاری مغفرت فرمائے کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہے تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں واپس لوٹا دیں گے ام مبشر نے اس پر کہا کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15777 مسند احمد
سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ، طَائِرٌ يَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹا دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15777]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عبدالرحمن بن عبدالله بن كعب لم يسمع هذا الحديث من جده كعب بن مالك ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عبدالرحمن بن عبدالله بن كعب لم يسمع هذا الحديث من جده كعب بن مالك ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 15778 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹادیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15779 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹادیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2949
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2949
حدیث نمبر: 15780 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُسْلِمِ طَيْرٌ يَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی روح پرندوں کی شکل میں جنت کے درختوں پر رہتی ہیں تاآنکہ قیامت کے دن اللہ اسے اس کے جسم میں لوٹا دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15781 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ:" قَلَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایسابہت کم ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر کا ارادہ فرمایا: ہو وہ جمعرات کا دن نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2949
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2949
حدیث نمبر: 15782 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، اسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا، وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ، فَجَلَا لِلْمُسْلِمِينَ أَمَرَهُمْ، لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ، أَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت کم ایسا کرتے تھے کہ کسی غزوے کا ارادہ ہوا اور اس میں کسی دوسری جگہ کے ارادے سے اسے مخفی نہ فرماتے ہوں سوائے غزوہ تبوک کے کہ شدید گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لمبے سفر اور صحراؤں کا ارادہ کیا تھا اور دشمن کی ایک کثیر تعداد کا سامنا کرنا تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی وضاحت فرمادی تھی کہ تاکہ وہ دشمن سے مقابلے کے لئے خوب اچھی طرح تیاری کر لیں اور انہیں اسی جہت کا پتہ بتادیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارادہ فرما رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2948، م: 2769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2948، م: 2769
حدیث نمبر: 15783 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ، وَيَكْسُونِي رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور میں اور میری امتی ایک ٹیلے پر ہوں گے میرا رب مجھے سبز رنگ کا ایک قیمتی جوڑا پہنائے گا پھر مجھے اجازت ملے گی اور میں اللہ کی مرضی کے مطابق اس کی تعریف کر وں گا یہی مقام محمود ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح