بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث الاَسوَدِ بنِ سَرِیع رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 15585 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ حَمِدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمِدَحٍ، وَإِيَّاكَ , قَالَ:" هَاتِ مَا حَمِدْتَ بِهِ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ أَدْلَمُ، فَاسْتَأْذَنَ , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيِّنْ بَيِّنْ" , قَالَ: فَتَكَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَاسْتَأْذَنَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيِّنْ بَيِّنْ" فَفَعَلَ ذَاكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي اسْتَنْصَتَّنِي لَهُ؟ قَالَ:" هذا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے پروردگار کی حمدومدح اور آپ کی تعریف میں کچھ اشعار کہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ذراسناؤ تم نے اپنے رب کی تعریف میں کیا کہا ہے میں نے اشعار سنانا شروع کئے اسی اثناء میں ایک گندمی رنگ کا آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے درمیان میں روک دیا وہ آدمی تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد چلا گیا میں پھر اشعار سنانے لگا تھوڑی دیر بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور اندر آنے کی اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پھر درمیان میں روک دیا اس شخص نے تین مرتبہ مرتبہ ایساہی کیا میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ کون ہے جس کی خاطر آپ مجھے خاموش کر وادیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمر بن خطاب ہیں یہ ایسے آدمی ہیں جو غلط باتوں کو پسند نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15585]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، ولم يسمع عبدالرحمن بن أبى بكرة من الأسود
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، ولم يسمع عبدالرحمن بن أبى بكرة من الأسود
حدیث نمبر: 15586 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُنْشِدُكَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟ قَالَ:" أَمَا إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْحَمْدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے پروردگار کی حمدومدح اور آپ کی تعریف میں کچھ اشعارک ہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب تعریف کو پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15586]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الأسود
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الأسود
حدیث نمبر: 15587 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، وَالْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ , وَالْمُبَارَكُ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِأَسِيرٍ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ , وَلَا أَتُوبُ إِلَى مُحَمَّدٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَرَفَ الْحَقَّ لِأَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک قیدی کو لایا گیا وہ قیدی کہنے لگا کہ اے اللہ میں آپ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں محمد سے توبہ نہیں کرتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے حقدارکاحق پہچان لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15587]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الأسود
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الأسود
حدیث نمبر: 15588 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِينَ، فَأَفْضَى بِهِمْ الْقَتْلُ إِلَى الذُّرِّيَّةِ، فَلَمَّا جَاءُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكُمْ عَلَى قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ:" أَوَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پرا یک دستہ روانہ فرمایا: انہوں نے مشرکین سے قتال کیا جس کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ان کی اولاد کے قتل تک جاپہنچا جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! وہ مشرکین کے بچے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جو روح بھی دنیا میں جنم لیتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہو تی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپنا مافی الضمیر ادا کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15588]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من الأسود، وقول الحسن: حدثنا الأسود، أى : حديث أهل البصرة
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من الأسود، وقول الحسن: حدثنا الأسود، أى : حديث أهل البصرة
حدیث نمبر: 15589 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ، فَأَصَبْتُ ظَهْرًا، فَقَتَلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ وَقَالَ: مَرَّةً الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ، جَاوَزَهُمْ الْقَتْلُ الْيَوْمَ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ؟!" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ" ثُمَّ قَالَ:" أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً، أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً قَالَ كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پرا یک دستہ روانہ فرمایا: انہوں نے مشرکین سے قتال کیا جس کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ان کی اولاد کے قتل تک جاپہنچا جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! وہ مشرکین کے بچے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جو روح بھی دنیا میں جنم لیتی ہے وہ فطرت پر پیدا ہو تی ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اپنا مافی الضمیر ادا کرنے لگے۔ اور اس کے والدین ہی اسے یہو دی عیسائی بناتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15589]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الأسود
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الأسود
حدیث نمبر: 15590 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ حَمِدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمِدَحٍ، وَإِيَّاكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْمَدْحَ، هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ تعالى" قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَاسْتَأْذَنَ، أَدْلَمُ أَصْلَعُ، أَعْسَرُ أَيْسَرُ، قَالَ: فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ، قَالَ: كَمَا صَنَعَ بِالْهِرِّ فَدَخَلَ الرَّجُلُ، فَتَكَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا , ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ، فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصَفَهُ أَيْضًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ ذَا الَّذِي اسْتَنْصَتَّنِي لَهُ؟ فَقَالَ:" هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اسود بن سریع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے پروردگار کی حمدومدح اور آپ کی تعریف میں کچھ اشعار کہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ذراسناؤ تم نے اپنے رب کی تعریف میں کیا کہا ہے میں نے اشعار سنانا شروع کئے اسی اثناء میں ایک گندمی رنگ کا آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے درمیان میں روک دیا وہ آدمی تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد چلا گیا میں پھر اشعار سنانے لگا تھوڑی دیر بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور اندر آنے کی اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پھر درمیان میں روک دیا اس شخص نے تین مرتبہ مرتبہ ایساہی کیا میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ کون ہے جس کی خاطر آپ مجھے خاموش کر وادیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمر بن خطاب ہیں یہ ایسے آدمی ہیں جو غلط باتوں کو پسند نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15590]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي نب زيد ، و عبدالرحمن بن أبى بكرة لم يسمع من الأسود
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي نب زيد ، و عبدالرحمن بن أبى بكرة لم يسمع من الأسود
حدیث نمبر: 15591 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15591]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف علي نب زيد ، و عبدالرحمن بن أبى بكرة لم يسمع من الأسود
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي نب زيد ، و عبدالرحمن بن أبى بكرة لم يسمع من الأسود