بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث جَدِّ اَبِی الاَشَدِّ السلَمِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 15494 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، بَقِيَّةُ ، عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيُّ ، أَبُو الْأَشَدِّ السُّلَمِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشَدِّ السُّلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَرَنَا نَجْمَعُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا، فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا" , وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ، وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ، وَذَبَحَهَا السَّابِعُ، وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواشدد کے دادا کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سات میں سے سا تو اں فرد تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اور ہم میں سے ہر آدمی نے ایک ایک درہم جمع کیا سات درہم کے عوض میں ہم نے قربانی کا ایک جانور خریدا پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں مہنگا ملا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل قربانی وہی ہے جو زیادہ مہنگی ہواور جانور زیادہ صحت مند ہو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر چار آدمیوں نے اس کی ایک ایک ٹانگ اور دو نے اس کا ایک ایک سینگ پکڑا اور ساتوں نے اسے ذبح کیا اور ہم سب نے اس پر تکبیر کہی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15494]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعدة علل
الحكم: إسناده ضعيف لعدة علل
حدیث نمبر: 15495 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، بَعْضِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي، وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ، لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس کے پاؤں کی پشت پر ایک درہم کے برابر کی جگہ ایسی بھی ہے کہ جس تک پانی پہنچاہی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے وضولوٹانے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15495]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية ، وهو يدلس تدليس التسوية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية ، وهو يدلس تدليس التسوية