إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، بَقِيَّةُ ، عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيُّ ، أَبُو الْأَشَدِّ السُّلَمِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشَدِّ السُّلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَرَنَا نَجْمَعُ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا، فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا" , وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ، وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ، وَذَبَحَهَا السَّابِعُ، وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواشدد کے دادا کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سات میں سے سا تو اں فرد تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اور ہم میں سے ہر آدمی نے ایک ایک درہم جمع کیا سات درہم کے عوض میں ہم نے قربانی کا ایک جانور خریدا پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں مہنگا ملا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل قربانی وہی ہے جو زیادہ مہنگی ہواور جانور زیادہ صحت مند ہو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر چار آدمیوں نے اس کی ایک ایک ٹانگ اور دو نے اس کا ایک ایک سینگ پکڑا اور ساتوں نے اسے ذبح کیا اور ہم سب نے اس پر تکبیر کہی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15494]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعدة علل
الحكم: إسناده ضعيف لعدة علل