بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث محَمَّدِ بنِ حَاطِب الجمَحِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 15451 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بَلْجٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَلْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصْلٌ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حلال حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15451]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15452 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، سِمَاكٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ , قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ : انْصَبَّتْ عَلَى يَدِي مِنْ قِدْرٍ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَكَانٍ، قَالَ: فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ:" أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ" وَأَحْسِبُهُ قَالَ , اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي" , قَالَ: وَكَانَ يَتْفُلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے گئی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی خاص جگہ پر تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے دعا فرمائی کہ اے لوگوں کے رب اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفا عطا فرما کیونکہ شفا دینے والا تو ہی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15452]
حکم دارالسلام
مرفوع صحيح ، وهذا اسناد حسن
الحكم: مرفوع صحيح ، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 15453 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، أُمِّ جَمِيلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَبَّاسِ فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ، قَالَتْ: أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا، فَفَنِيَ الْحَطَبُ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ، فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ، فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ فَتَفَلَ فِي فِيكَ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ، وَدَعَا لَكَ، وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ , وَيَقُولُ:" أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" , فَقَالَتْ: فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ، حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا محمد بن حاطب کی والدہ ام جمیل کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں تمہیں سر زمین حبشہ سے لے کر آرہی تھی کہ جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر رہ گئی تو میں نے تمہارے لئے کھانا پکانا شروع کیا اسی اثناء میں لکڑیاں ختم ہو گئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی تو تم نے ہانڈی اپنے ہاتھ پر گرا لی وہ الٹ کر تمہارے بازو پر گرگئی میں تمہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اوعرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ محمد بن حاطب ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لئے برکت کی دعا فرمائی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے ہاتھ پر اپنا لعاب دہن ڈالتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے اے لوگوں کے رب اس تکلیف کو دور فرما اور شفا عطا فرما کیونکہ تو ہی شفا ہی دینے والا ہے تیرے علاوہ کسی کو شفا نہیں ہے ایسی شفاعطا فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے لے کر اٹھنے بھی نہیں پائی تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15453]
حکم دارالسلام
مرفوع صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عثمان، وروي عن أبيه أحاديث منكرة وفي أبيه لين
الحكم: مرفوع صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن عثمان، وروي عن أبيه أحاديث منكرة وفي أبيه لين
حدیث نمبر: 15454 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ:" دَبَبْتُ إِلَى قِدْرٍ وَهِيَ تَغْلِي، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِيهَا، فَاحْتَرَقَتْ، أَوْ قَالَ فَوَرِمَتْ يَدِي، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ شَيْئًا، وَنَفَثَ، فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ، قُلْتُ لِأُمِّي: مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ قَالَتْ: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن حاطب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں پاؤں کے بل چلتا ہوا ہانڈی کے پاس پہنچا وہ ابل رہی تھی میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ سوج گیا یا جل گیا میری والدہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گئی جو مقام بطحاء میں تھا اس نے کچھ پڑھا اور میرا ہاتھ پر تھنکا دیا سیدنا عثمان کے دور خلافت میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا انہوں نے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15454]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك