إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ:" دَبَبْتُ إِلَى قِدْرٍ وَهِيَ تَغْلِي، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِيهَا، فَاحْتَرَقَتْ، أَوْ قَالَ فَوَرِمَتْ يَدِي، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ شَيْئًا، وَنَفَثَ، فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ، قُلْتُ لِأُمِّي: مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ قَالَتْ: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن حاطب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں پاؤں کے بل چلتا ہوا ہانڈی کے پاس پہنچا وہ ابل رہی تھی میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ سوج گیا یا جل گیا میری والدہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گئی جو مقام بطحاء میں تھا اس نے کچھ پڑھا اور میرا ہاتھ پر تھنکا دیا سیدنا عثمان کے دور خلافت میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا انہوں نے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15454]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك