بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث نَافِعِ بنِ عَبدِ الحَارِثِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 15372 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، خُمِيلٌ ، وَمُجَاهِدٌ ، نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٍ ، خُمِيلٍ ، نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي خُمِيلٌ ، وَمُجَاهِدٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ الْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ" , حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ خُمِيلٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بات انسان کی سعادت مندی کی علامت ہے کہ اسے نیک پڑوسی سبک رفتار سواری اور کشادہ مکان میسر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15372]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا سند حسن فى الشواهد من أجل خميل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا سند حسن فى الشواهد من أجل خميل
حدیث نمبر: 15373 مسند احمد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ حُمَيْلٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15373]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند حسن فى الشواهد من أجل خميل
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى الشواهد من أجل خميل
حدیث نمبر: 15374 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَ: نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ ، خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا، فَقَالَ لِي:" أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ"، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، فَضُرِبَ الْبَابُ، قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، قَالَ: فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا عُمَرُ، قَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، قَالَ: فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: عُثْمَانُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عُثْمَانُ، قَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، مَعَهَا بَلَاءٌ"، فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا کہ دروازے پر رکو بلا اجازت کسی کو اندر نہ آنے دینا پھر آپ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لئے اتنی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی میں نے پوچھا: کون ہے؟ جواب آیا ابوبکر ہوں میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوبکر آئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی خوش خبری بھی سنادو چنانچہ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دیدی اور جنت کی خوش خبری بھی سنادی وہ اندر داخل ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کنویں کی منڈیر پر بیٹھ کر پاؤں کنویں میں لٹکا لئے۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی میں نے پوچھا: کون ہے؟ جواب آیا عمر ہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ عمر ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے دو اور جنت کی بشارت بھی دیدو چنانچہ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دیدی اور جنت کی خوش خبری سنائی وہ اندر داخل ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کنویں کی منڈیر پر بیٹھ کر پاؤں کنویں میں لٹکالیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر پھر دستک ہوئی میں نے پوچھا کہ کون ہے جواب آیا عثمان ہوں میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ عثمان آئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دیدو اور ایک مصیبت کے ساتھ جنت کی خوش خبری سنادو چنانچہ میں نے انہیں بھی اجازت دیدی اور جنت کی خوش خبری بھی سنادی وہ بھی اندر داخل ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کنویں کی منڈیر پر بیٹھ کر پاؤں کنویں میں لٹکالیے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15374]
حکم دارالسلام
لم يذكر سماع ابي سلمة بن نافع بن عبدالحارث، ومحمد بن عمرو تكلم فيه بعضهم من قبل حفظه، وقد وهم فيه، وروي عنه أيضا أن الذى كان بأذن هو بلال بن رباح، وخولف فيه كذلك
الحكم: لم يذكر سماع ابي سلمة بن نافع بن عبدالحارث، ومحمد بن عمرو تكلم فيه بعضهم من قبل حفظه، وقد وهم فيه، وروي عنه أيضا أن الذى كان بأذن هو بلال بن رباح، وخولف فيه كذلك
حدیث نمبر: 15375 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَجَلَسَ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، وَسَيَلْقَى بَلَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لئے اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر نے آ کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی خوش خبری سنادو۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر نے آ کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دیدو اور جنت کی بشارت بھی دیدو۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عثمان نے آ کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں اندر آنے کی اجازت دے دو اور ایک مصیبت کے ساتھ جنت کی خوش خبری سنادو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15375]
حکم دارالسلام
أبو سلمة لم يذكر له سماع من نافع بن عبدالحارث
الحكم: أبو سلمة لم يذكر له سماع من نافع بن عبدالحارث