عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَجَلَسَ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، وَسَيَلْقَى بَلَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا نافع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لئے اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر نے آ کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی خوش خبری سنادو۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر نے آ کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دیدو اور جنت کی بشارت بھی دیدو۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عثمان نے آ کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں اندر آنے کی اجازت دے دو اور ایک مصیبت کے ساتھ جنت کی خوش خبری سنادو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15375]
حکم دارالسلام
أبو سلمة لم يذكر له سماع من نافع بن عبدالحارث
الحكم: أبو سلمة لم يذكر له سماع من نافع بن عبدالحارث