بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث سَبرَةَ بنِ مَعبَد رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 15
حدیث نمبر: 15337 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1406
الحكم: إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15338 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَد ، أَبِي ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، الزُّهْرِيِّ ، رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَد ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُتْعَةَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" يَنْهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1406
الحكم: إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15339 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ أُمِرَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا بَلَغَ عَشْرًا ضُرِبَ عَلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب لڑکا سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر اسے مارا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15339]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15340 مسند احمد
زَيْدٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَتِرْ لِصَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے تو سترہ گاڑ لیا کر ے خواہ ایک تیر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15340]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15341 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أّن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15341]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15342 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُتْرَةُ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ السَّهْمُ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَتِرْ بِسَهْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز میں انسان کا سترہ تیر بھی بن سکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تیر ہی کا سترہ بنالے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15342]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15343 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَرَخَّصَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ الْمُتْعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15343]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1406، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1406، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15344 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَرَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1406
الحكم: إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15345 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ" , فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لْأَبَدِ؟ قَالَ:" بَلْ لْأَبَدِ" , فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ:" فَافْعَلُوا" , قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ , وَعَلَيْهِ بُرْدٌ، فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ , فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي، فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي، وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ، وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي، فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا، وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا، وَلْيُفَارِقْهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم لوگ مقام غسان میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اس پر سیدنا سراقہ بن مالک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان لوگوں کی طرح تعلیم دیجیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں یہ ہمارے اس عمرے کا حکم ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا ہی کر لو چنانچہ میں اور میرا ساتھی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہو گی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کر لیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کر لیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گزاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے تم میں جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کیا ہے اسے چاہیے کہ اس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15346 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عام الْفَتْحِ، فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ , قَالَ: قَالَ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ، قَالَ: وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ قَالَ فِي أَعْلَى مَكَّةَ، فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ، قَالَ: وَأَنَا قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ، وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ , قَالَ: فَقُلْنَا لَهَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ، وَبُرْدَ ابْنِ عَمِّي هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ، قَالَتْ: بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ، قَالَ فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا، فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکر مہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1406
الحكم: إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15347 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ رَبِّ بْنَ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ يُقَالُ لَهُ: السَّبْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ يُقَالُ لَهُ: السَّبْرِيّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" أَمَرَهُمْ بِالْمُتْعَةِ" , قَالَ: فَخَطَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ امْرَأَةً، قَالَ: فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَإِذَا هُوَ يُحَرِّمُهَا أَشَدَّ التَّحْرِيمِ، وَيَقُولُ فِيهَا أَشَدَّ الْقَوْلِ، وَيَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی چنانچہ میں اور میرا ایک ساتھی نکلے اور ایک عورت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو وہ شدت سے اس کی حرمت بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ اس کی ممانعت فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15347]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على خطأ فى إسناده، عبد رب بن سعيد و عبيد بن محمد بن عمر بن عبدالعزيز خطأ، صوابه: عبد ربه بن سعيد و عبدالعزيز بن عمر بن عبدالعزيز
الحكم: حديث صحيح على خطأ فى إسناده، عبد رب بن سعيد و عبيد بن محمد بن عمر بن عبدالعزيز خطأ، صوابه: عبد ربه بن سعيد و عبدالعزيز بن عمر بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 15348 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15348]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15349 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، سَبْرَةَ الْجُهَنِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيّ , أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ مَا تَبْذُلَانِ؟ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا: رِدَائِي، قَالَ: وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، قَالَتْ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي، قَالَ: فَأَقَمْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النِّسَاءِ الَّتِي تَمَتَّعَ بِهِنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا" , قَالَ: فَفَارَقْتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکر مہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1406
الحكم: إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15350 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ:" نِكَاحِ الْمُتْعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1406
الحكم: إسناده صحيح، م: 1406
حدیث نمبر: 15351 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا , قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ" , قَالَ وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمُ التَّزْوِيجِ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ نُضْرَبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" افْعَلُوا" , قال: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَمَعَهُ بُرْدَةٌ وَمَعِي بُرْدَةٌ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ فَأَتَيْنَا امْرَأَةً، فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي، وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي، فَقَالَتْ بُرْدٌ كَبُرْدٍ، قَالَ: فَتَزَوَّجْتُهَا، فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، قَالَ: فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ , يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ:" أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم عمرہ کر کے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہمارے نزدیک اس سے مراد شادی کرنا تھا ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایساہی کر لو چنانچہ میں اور میرا چچا زاد نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور جسمانی طور پر میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہو گی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کر لیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کر لیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گزاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی سو جس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15351]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات