بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15345
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15345
حدیث نمبر: 15345 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ" , فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لْأَبَدِ؟ قَالَ:" بَلْ لْأَبَدِ" , فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ:" فَافْعَلُوا" , قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ , وَعَلَيْهِ بُرْدٌ، فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ , فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي، فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي، وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ، وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي، فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا، وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا، وَلْيُفَارِقْهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم لوگ مقام غسان میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اس پر سیدنا سراقہ بن مالک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان لوگوں کی طرح تعلیم دیجیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں یہ ہمارے اس عمرے کا حکم ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا ہی کر لو چنانچہ میں اور میرا ساتھی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہو گی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کر لیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کر لیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گزاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے تم میں جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کیا ہے اسے چاہیے کہ اس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (15344) باب پر واپس اگلی حدیث (15346) →