بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عَقِیلِ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1738 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: مَهْ , لَا تَقُولُوا ذَلِكَ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ قُولُوا:" بَارَكَ اللَّهُ لَهَا فِيكَ وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی اور وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے مبارک باد دیتے ہوئے کہا: اللہ آپ کے درمیان اتفاق پیدا کرے اور آپ کو بیٹے عطاء فرمائے، انہوں نے فرمایا: ٹھہرو، یہ نہ کہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے اور یہ کہنے کا حکم دیا ہے: «بَارَكَ اللّٰهُ لَهَا فِيكَ وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا» اللہ تم میں برکت پیدا فرمائے اور تمہیں اپنی بیوی کے لئے مبارک فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1738]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن محمد بن عقيل لم يدرك جده.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن محمد بن عقيل لم يدرك جده.
حدیث نمبر: 1739 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، قَالُوا: فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ؟ قَالَ: قُولُوا" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی اور وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: اللہ آپ کے درمیان اتفاق پیدا کرے اور آپ کو بیٹے عطاء فرمائے، انہوں نے فرمایا: ٹھہرو! یہ نہ کہو، ہم نے ان سے پوچھا کہ اے ابویزید! پھر کیا کہیں؟ انہوں نے فرمایا: یوں کہو: اللہ تم میں برکت پیدا فرمائے اور تمہیں اپنی بیوی کے لئے مبارک فرمائے۔ ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1739]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل.