إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، قَالُوا: فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ؟ قَالَ: قُولُوا" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ جب سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی اور وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: اللہ آپ کے درمیان اتفاق پیدا کرے اور آپ کو بیٹے عطاء فرمائے، انہوں نے فرمایا: ٹھہرو! یہ نہ کہو، ہم نے ان سے پوچھا کہ اے ابویزید! پھر کیا کہیں؟ انہوں نے فرمایا: یوں کہو: اللہ تم میں برکت پیدا فرمائے اور تمہیں اپنی بیوی کے لئے مبارک فرمائے۔ ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1739]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل.