بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 34
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 1425 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، فُلَيْحُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الزُّبَيْرَ سَهْمًا، وَأُمَّهُ سَهْمًا، وَفَرَسَهُ سَهْمَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک غزوہ سے فراغت کے بعد مال غنیمت میں سے انہیں ایک حصہ دیا تھا۔ ان کی والدہ کو بھی ایک حصہ دیا تھا اور گھوڑے کے دو حصے مقرر فرمائے تھے (یعنی ہر گھڑ سوار کو دو حصے، اور ہر پیدل کو ایک حصہ دیا تھا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1425]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، فليح مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، فليح مجهول
حدیث نمبر: 1426 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُبَارَكٌ ، الْحَسَنُ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: لَا، وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ؟ قَالَ: أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ , قَالَ: لَا، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں علی کا کام تمام نہ کر دوں؟ فرمایا: ہرگز نہیں! اور ویسے بھی ان کے ساتھ اتنا بڑا لشکر ہے کہ تم انہیں قتل کر ہی نہیں سکتے؟ اس نے کہا کہ پھر آپ ان کے پاس جا کر خلافت کے معاملے میں جھگڑا کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1426]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1427 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، الْحَسَنُ ، الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ: أَتَى رَجُلٌ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ , فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: وَكَيْفَ تَسْتَطِيعُ قَتْلَهُ وَمَعَهُ النَّاسُ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1427]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1428 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا لَكَ لَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا فَارَقْتُهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کیوں نہیں بیان کرتے؟ فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کبھی جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ (اس لئے میں ڈرتا ہوں)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1429 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَجِيءَ بِحُزْمَةٍ مِنْ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 1471
الحكم: إسناده صحيح، خ : 1471
حدیث نمبر: 1430 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ ، مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ، وَالْبَغْضَاءُ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہیں، اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کامل مومن نہ ہو جاؤ، اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کر لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو رواج دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1430]
حکم دارالسلام
قسم السلام صحيح لغيره، وسائره حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولى آل الزبير
الحكم: قسم السلام صحيح لغيره، وسائره حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولى آل الزبير
حدیث نمبر: 1431 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ ، مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَن يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ....." , فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1431]
حدیث نمبر: 1432 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" دَبَّ إِلَيْكُمْ....." , فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1432]
حدیث نمبر: 1433 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، الْحَسَنِ ، لِلزُّبَيْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلزُّبَيْرِ : أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: كَيْفَ تَقْتُلُهُ؟ قَالَ: أَفْتِكُ بِهِ , قَالَ: لَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ کیا میں علی کا کام تمام نہ کردوں؟ فرمایا: تم انہیں کس طرح قتل کر سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ پھر آپ ان کے پاس جا کر خلافت کے معاملے میں جھگڑا کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1433]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1434 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ , ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 30 - 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ؟ قَالَ:" نَعَمْ , لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ" , فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ٭ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ» [الزمر: 30-31] بے شک تم مرنے والے ہو اور بےشک وہ بھی مرنے والے ہیں، پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ تو انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے مد مقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہی جھگڑا دوبارہ ہوگا یہاں تک کہ حقدار کو اس کا حق مل جائے۔ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! یہ تو بہت سخت بات ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1434]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1435 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، عِكْرِمَةَ ، سُفْيَانَ ، الزُّبَيْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ عَمْرٌو : وَسَمِعْتُ عِكْرِمَةَ : وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ سورة الأحقاف آية 29، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ , عَنِ الزُّبَيْرِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ سورة الأحقاف آية 29، قَالَ: بِنَخْلَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم يصلي العشاء الآخرة كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 , قال سفيان: كاللبد بعضهم على بعض، كاللبد بعضه على بعض.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنات کے قرآن کریم سننے کا جو تذکرہ قرآن شریف میں آیا ہے وہ وادی نخلہ سے متعلق ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء پڑھ رہے تھے، اور آیت قرآنی: « ﴿كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا﴾ [الجن: 19] » کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے سفیان کہتے ہیں کہ ایک دوسرے پر چڑھے چلے آرہے تھے (یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عبادت میں مصروف دیکھ کر مشرکین بھیڑ لگا کر اس طرح اکٹھے ہو جاتے تھے کہ اب حملہ کیا اور اب حملہ کیا، ایسا محسوس ہوتا تھا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1435]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاع بين عكرمة وبين الزبير
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاع بين عكرمة وبين الزبير
حدیث نمبر: 1436 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُسْلِمُ بْنُ جُنْدُبٍ ، مَنْ ، الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ جُنْدُبٍ , حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نُبَادِرُ فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ إِلَّا مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا , أَوْ قَالَ: فَمَا نَجِدُ مِنَ الظِّلِّ مَوْضِعَ أَقْدَامِنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے (اور واپس آ کر ٹیلوں میں بیج بکھیرنے لگ جاتے تھے)، اس موقع پر ہمیں سوائے اپنے قدموں کی جگہ کے کہیں سایہ نہ ملتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1436]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الواسطة بين مسلم بن جندب وبين الزبير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الواسطة بين مسلم بن جندب وبين الزبير
حدیث نمبر: 1437 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَلِيٍّ ، الزُّبَيْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ أَوْ مَسْلَمَةَ، قَالَ كَثِيرٌ: وَحِفْظِي سَلِمَةَ , عَنْ عَلِيٍّ ، أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا، فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى نَعْرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمْ الْأَمْرُ غُدْوَةً، وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہمیں نصیحت فرماتے تھے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو اس کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دیتے تھے، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ اس قوم کو ڈرا رہے ہیں جن کا معاملہ صبح صبح ہی طے ہو جائے گا، اور جب حضرت جبرئیل علیہ السلام سے عنقریب ملاقات ہوئی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تک نہ ہنستے تھے جب تک وحی کی کیفیت کے اثرات ختم نہ ہو جاتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1437]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1438 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرٌ ، الْحَسَنَ ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ , قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً سورة الأنفال آية 25، فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ؟ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگوں کی اچھی خاصی تعداد تھی: « ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾ [الأنفال: 25] » اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی)۔ تو ہم کہنے لگے کہ یہ کون سی آزمائش ہوگی؟ لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آ گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1438]
حکم دارالسلام
حديث جيد
الحكم: حديث جيد