أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرٌ ، الْحَسَنَ ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ , قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً سورة الأنفال آية 25، فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ؟ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگوں کی اچھی خاصی تعداد تھی: « ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾ [الأنفال: 25] » ”اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی)۔“ تو ہم کہنے لگے کہ یہ کون سی آزمائش ہوگی؟ لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آ گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1438]
الحكم: حديث جيد