عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدًا ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسِتِّ حَصَيَاتٍ، فَقَالَ: لِيُطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ , قَالَ: فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا فَسَأَلْتُهُ، وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ طَاوُسٍ، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا بَلَغَهُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: رَمَيْنَا الْجِمَارَ، أَوْ الْجَمْرَةَ فِي حَجَّتِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاكَرُ، فَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسَبْعٍ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِثَمَانٍ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِتِسْعٍ فَلَمْ يَرَوْا بِذَلِكَ بَأْسًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے طاؤس سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی جمرات کی رمی کرتے ہوئے کسی جمرہ کو سات کی بجائے چھ کنکریاں مار دے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک مٹھی کے برابر گندم صدقہ کر دے، اس کے بعد میں مجاہد سے ملا تو ان سے بھی یہی سوال کیا اور طاؤس کا جواب بھی ذکر کر دیا، انہوں نے کہا کہ اللہ ان پر رحم کرے، کیا انہیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نہیں پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم نے جو حج کیا تھا، اس میں جمرات کی رمی کرنے کے بعد جب ہم لوگ بیٹھے اور آپس میں بات چیت ہونے لگی تو کسی نے کہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں، کسی نے سات کہا، کسی نے آٹھ اور کسی نے نو کہا، لیکن انہوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1439]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من سعد بن أبى وقاص
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من سعد بن أبى وقاص