بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 27413 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ ، زَيْنَبَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ , عَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ سُفْيَانُ: أَرْبَعُ نِسْوَةٍ , قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ , وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ , وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ" , وَحَلَّقَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور وہ یہ فرما رہے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قریب آنے والے شر سے اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے، آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا بڑا سوراخ ہو گیا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگلی سے حلقہ بنا کر دکھایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب گندگی بڑھ جائے (تو ایسا ہی ہوتا ہے)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3346، م: 2880
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3346، م: 2880
حدیث نمبر: 27414 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا , يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا" , قَالَ: وَحَلَّقَ بِأُصْبُعَيْهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا , قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟! قَالَ:" نَعَمْ , إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور وہ یہ فرما رہے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قریب آنے والے شر سے اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے، آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا بڑا سوراخ ہو گیا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگلی سے حلقہ بنا کر دکھایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب گندگی بڑھ جائے (تو ایسا ہی ہوتا ہے)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3346، م: 2880
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3346، م: 2880
حدیث نمبر: 27415 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ ابْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِي الْجَرَّاحِ ، أُمِّ حَبِيبَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , كَمَا يَتَوَضَّئُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت جب وہ وضو کرتے ہیں مسواک کا حکم دے دیتا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27415]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الجراح
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الجراح
حدیث نمبر: 27416 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاقِدٌ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ بِالْإِبْهَامِ , وَهُوَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ , إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور وہ یہ فرما رہے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قریب آنے والے شر سے اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے، آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا بڑا سوراخ ہو گیا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگلی سے حلقہ بنا کر دکھایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب گندگی بڑھ جائے (تو ایسا ہی ہوتا ہے)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27416]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع