بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 27361 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرًا ، أُمُّ مُبَشِّرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ , فَقَالَ:" لَكِ هَذَا؟" , فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَقَالَ:" مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟" , قُلْتُ: مُسْلِمٌ , قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا , فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ , أَوْ إِنْسَانٌ , أَوْ سَبُعٌ أَوْ شَيْءٌ , إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً" , قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَكُنْ فِي النُّسْخَةِ , سَمِعْتُ جَابِرًا , فَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتَ جابرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی باغ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ تمہارا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: اس کے پودے کسی مسلمان نے لگائے ہیں یا کافر نے؟ میں نے عرض کیا: مسلمان نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان کوئی پودہ لگائے یا کوئی فصل اگائے اور اس سے انسان، پرندے، درندے یا چوپائے کھائیں تو وہ اس کے لئے باعث صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27362 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا ، أُمُّ مُبَشِّرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ , أَنَّها سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حَفْصَةَ , يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ , الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا" , فَقَالَتْ: بَلَى , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَانْتَهَرَهَا , فَقَالَتْ حفْصَةُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ارشاد فرمایا: مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ «وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا» تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہو گا۔ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: «ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا» پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2496
الحكم: إسناده صحيح، م: 2496