ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرًا ، أُمُّ مُبَشِّرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ , فَقَالَ:" لَكِ هَذَا؟" , فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَقَالَ:" مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟" , قُلْتُ: مُسْلِمٌ , قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا , فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ , أَوْ إِنْسَانٌ , أَوْ سَبُعٌ أَوْ شَيْءٌ , إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً" , قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَكُنْ فِي النُّسْخَةِ , سَمِعْتُ جَابِرًا , فَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتَ جابرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی باغ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ تمہارا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”اس کے پودے کسی مسلمان نے لگائے ہیں یا کافر نے؟“ میں نے عرض کیا: مسلمان نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مسلمان کوئی پودہ لگائے یا کوئی فصل اگائے اور اس سے انسان، پرندے، درندے یا چوپائے کھائیں تو وہ اس کے لئے باعث صدقہ ہے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27361]
الحكم: إسناده صحيح