بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 27156 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ ، قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ , وَعَمِّهِ قَتَادَةَ , أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَادَّخِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قربانی کا گوشت کھا بھی سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27157 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، أَبِي الْعَلَانِيَةِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، امْرَأَتَهُ ، فُلَانًا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَلَانِيَةِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: أَتَيْتُ هَذِهِ امْرَأَتَهُ , وَعِنْدَهَا لَحْمٌ مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَدْ رَفَعَتْهُ، فَرَفَعْتُ عَلَيْهَا الْعَصَا، فَقَالَتْ: إِنَّ فُلَانًا أَتَانَا، فَأَخْبَرَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُمْسِكُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں پہلے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے کی ممانعت کی تھی، اب تم قربانی کا گوشت کھا بھی سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27158 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ ، يَزِيدُ ، جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ ، وَقَعَ بِقُرَيْشٍ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا قَتَادَةُ، لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ، وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ، لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، قَالَ يَزِيدُ : سَمِعَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کسی موقع پر قریشی لوگوں کی شان میں سخت کلمات کہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ سن لئے اور فرمایا: اے قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ تم ان میں سے بہت سے آدمیوں کو دیکھو گے اور ان کے اعمال کے سامنے اپنے عمل کو اور ان کے افعال کے سامنے اپنے فعل کو حقیر سمجھو گے اور جب انہیں دیکھو گے تو ان پر رشک کرو گے، اگر قریش کے سرکشی میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ کے یہاں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27158]
حکم دارالسلام
إسناداه ضعيفان: الأول الانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من قتادة، والثاني: فيه عمر بن قتادة، وهو مجهول
الحكم: إسناداه ضعيفان: الأول الانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من قتادة، والثاني: فيه عمر بن قتادة، وهو مجهول