يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ ، يَزِيدُ ، جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ ، وَقَعَ بِقُرَيْشٍ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا قَتَادَةُ، لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ، وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ، لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، قَالَ يَزِيدُ : سَمِعَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کسی موقع پر قریشی لوگوں کی شان میں سخت کلمات کہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ سن لئے اور فرمایا: اے قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ تم ان میں سے بہت سے آدمیوں کو دیکھو گے اور ان کے اعمال کے سامنے اپنے عمل کو اور ان کے افعال کے سامنے اپنے فعل کو حقیر سمجھو گے اور جب انہیں دیکھو گے تو ان پر رشک کرو گے، اگر قریش کے سرکشی میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ کے یہاں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27158]
حکم دارالسلام
إسناداه ضعيفان: الأول الانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من قتادة، والثاني: فيه عمر بن قتادة، وهو مجهول
الحكم: إسناداه ضعيفان: الأول الانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من قتادة، والثاني: فيه عمر بن قتادة، وهو مجهول