بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 27148 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، أُمِّ بُجَيْدٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ، فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أدْفَعُ فِي يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27148]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27149 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، أمُ بُجَيْدٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أمُ بُجَيْدٍ ، وَكَانَتْ تُزْعَمُ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27149]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27150 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، اللَّيْثُ ، سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ ، أُمُّ بُجَيْدٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي , فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا , فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27150]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27151 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، أُمِّ بُجَيْدٍ
حدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي، فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ، فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي، فَقَالَ: " ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ، وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27151]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقد توبع
حدیث نمبر: 27152 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ ، ابْنِ بِجَادٍ ، جَدَّتِهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ ابْنِ بِجَادٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُدُّوا السَّائِلَ، وَلَوْ بِظِلْفِ شَاةٍ مُحْرَقٍ أَوْ مُحْتَرِقٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سائل کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27152]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن