عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، أُمِّ بُجَيْدٍ
حدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي، فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ، فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي، فَقَالَ: " ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ، وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27151]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، وقد توبع