بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 63
صفحہ 1 از 4
حدیث نمبر: 26795 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: " أَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا، فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ؟" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ! , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا" , قَالَ سُفْيَانُ: هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا مِنَ الزُّهْرِيِّ:" حُرِّمَ أَكْلُهَا" , قَالَ أَبِي: قَالَ سُفْيَانُ: مَرَّتَيْنِ عَنْ مَيْمُونَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ مردہ ہے فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26795]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 363
الحكم: إسناده صحيح، م: 363
حدیث نمبر: 26796 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، فَأَلْقُوهُ، وَكُلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26796]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5538
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5538
حدیث نمبر: 26797 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سفيان بن عيينة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سفيان بن عيينة
حدیث نمبر: 26798 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، يَبْدَأُ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَضْرِبُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَيَمْسَحُهَا، ثُمَّ يَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَنَحَّى، فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھو کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
الحكم: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26799 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْد اللَّهِ ، أَبُو الرَّبِيعِ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26799]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
الحكم: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26800 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ السَّبَّاقِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاثِرًا، فَقِيلَ لَهُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْبَحْتَ خَاثِرًا؟ قَالَ: " وَعَدَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ يَلْقَانِي، فَلَمْ يَلْقَنِي، وَمَا أَخْلَفَنِي" , فَلَمْ يَأْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَلَا الثَّانِيَةَ، وَلَا الثَّالِثَةَ، ثُمَّ اتَّهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرْوَ كَلْبٍ , وَكَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ مَاءً، فَرَشَّ مَكَانَهُ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ:" وَعَدْتَنِي، فَلَمْ أَرَكَ؟" قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ , قال: فَأَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْكِلَابِ , قَالَ: حَتَّى كَانَ يُسْتَأْذَنُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، فَيَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُقْتَلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت بوجھل محسوس ہوئی تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا بات ہے کہ آج صبح ہی آپ کی طبیعت بوجھل محسوس ہو رہی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آئے نہیں حالانکہ انہوں نے کبھی خلاف وعدہ نہیں کیا تین راتوں تک جبرائیل نہ آئے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری چارپائی کے نیچے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور پانی لے کر وہاں بہا دیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نظر نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی دن کتوں کو مارنے کا حکم دیدیا حتی کہ اگر کوئی شخص اپنے باغ کی حفاظت کے لئے چھوٹے کتے کی اجازت بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھی قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26800]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2105، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ابي حفصة، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2105، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ابي حفصة، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 26801 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس باقی ماندہ پانی سے وضو کیا جس سے انہوں نے غسل جنابت کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26801]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26802 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ مِنْهَا، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهَا، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ أَوْ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" , فَاغْتَسَلَ مِنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ناپاک تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھی غسل واجب تھا، میں نے ایک ٹب کے پانی سے غسل کیا جس میں کچھ پانی بچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ اس پانی سے میں نے غسل جنابت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی میں جنابت نہیں آجاتی اور اسی سے غسل فرمالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26802]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26803 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ لَهُمْ جَامِدٍ، فَقَالَ: " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26803]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 5538، محمد بن مصعب مقارب الحديث فى الأوزاعي، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 5538، محمد بن مصعب مقارب الحديث فى الأوزاعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 26804 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِهِ، وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ" , قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهُ قَالَ: حَائِضٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی تو کسی زوجہ محترمہ کی چادر کا ایک حصہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تھا اور دوسرا حصہ زوجہ محترمہ پر تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26804]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26805 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، الشَّيْبَانِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26805]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 333، م: 513
الحكم: إسناده صحيح، خ: 333، م: 513
حدیث نمبر: 26806 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ، إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي طَرَفُ ثَوْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 379، م: 513
الحكم: إسناده صحيح، خ: 379، م: 513
حدیث نمبر: 26807 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَإِذَا سَجَدَ، أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 518، م: 513
الحكم: إسناده صحيح، خ: 518، م: 513
حدیث نمبر: 26808 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الشَّيْبَانِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ، فَيَسْجُدُ، فَيُصِيبُنِي ثَوْبُهُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26808]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 333، م: 513 وهذا إسناد خالف فيه محمد بن فضيل الرواة عن الشيباني
الحكم: حديث صحيح، خ: 333، م: 513 وهذا إسناد خالف فيه محمد بن فضيل الرواة عن الشيباني
حدیث نمبر: 26809 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْأَصَمِّ ، عَمِّهِ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ أَبِي: وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ اسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَجَدَ وَثَمَّ بَهْمَةٌ , أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ تَجَافَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ فرماتے اور وہاں سے آگے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازوؤں کو مزید پہلوؤں سے جدا کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 496
الحكم: إسناده صحيح، م: 496
حدیث نمبر: 26810 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَنْبُوذٍ ، أُمِّهِ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ ، فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ , قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ، فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ" ، أَيْ بُنَيَّ , وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26810]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
حدیث نمبر: 26811 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَنْبُوذٍ ، أُمِّهِ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ , سَمِعَتْهُ مِنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: " وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَبْسُطُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْرَةَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26811]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
حدیث نمبر: 26812 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي بَكَّارٍ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيلٍ ، أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيل ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكَّارٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ، وَلَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا، اخْتَرْتُهُ , ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيلٍ ، قَالَ أَبِي: وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيل ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , وقَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ، فَصَاعِدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26812]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فقد اختلف فيه على أبى المليح، وعبدالله بن سليل مجهول
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فقد اختلف فيه على أبى المليح، وعبدالله بن سليل مجهول
حدیث نمبر: 26813 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرٌ ، كُرَيْبًا ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَتِفٍ، ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور تازہ وضو نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ، خ: 210، م: 356 وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، ، خ: 210، م: 356 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26814 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ ابْنَةُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ؟ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَلَا تُخْبِرِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ، فَأَخْبَرَتْهُ: أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَتَرَكَهُ , قَالَ خَالِدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ" , قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ، فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ , قَالَ: وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ وَأَظُنُّ أَنَّ الْأَصَمَّ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خالد بن ولید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی علیہ السلم کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث جو ان کی خالہ تھیں، کے گھر داخل ہوئے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا جو نجد سے ام حفید بنت حارث لے کر آئی تھی، جس کا نکاح بنو جعفر کے ایک آدمی سے ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز کو اس وقت تک تناول نہیں فرماتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ یہ کیا ہے؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اسے ایک طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26814]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5400، م: 1946
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5400، م: 1946