بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 26755 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ الْهَجَرِيِّ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: " أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" تَصُومِينَ غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنا روزہ ختم کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26755]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1986
حدیث نمبر: 26756 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي أَيُّوبَ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا يوم جمعة وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ: " أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , فَقَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟ ," قَالَتْ , لَا , قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنا روزہ ختم کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26756]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26757 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، أُمِّ عُثْمَانَ ، الطُّفَيْلِ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، جُوَيْرِيَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ ، عَنْ الطُّفَيْلِ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ریشمی لباس پہنتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کا لباس پہنائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26757]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضعفاء والمجاهيل على نسق
الحكم: إسناده مسلسل بالضعفاء والمجاهيل على نسق
حدیث نمبر: 26758 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً وَأَنَا أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالَ:" مَا زِلْتِ قَاعِدَةً؟" , قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِهِنَّ، عَدَلَتْهُنَّ أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِهِنَّ وَزَنَتْهُنَّ يَعْنِي بِجَمِيعِ مَا سَبَّحَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیحات پڑھ رہی تھی کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کام سے چلے گئے پھر نصف النہار کے وقت واپس آئے تو فرمایا کیا تم اس وقت سے یہاں بیٹھی ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کا وزن اگر تمہاری اتنی لمبی تسبیحات سے کیا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا اور وہ یہ ہیں سبحان اللہ عدد خلقہ تین مرتبہ سبحان اللہ زنۃ عرشہ تین مرتبہ سبحان اللہ رضا نفسہ تین مرتبہ سبحان اللہ مداد کلمات تین مرتبہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26758]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2726
الحكم: إسناده صحيح، م: 2726